موت زندگی سے مہنگی، قبرستانوں میں گورکن مافیا کا راج - Pakiatani Media News

Breaking

Tuesday, 30 June 2026

موت زندگی سے مہنگی، قبرستانوں میں گورکن مافیا کا راج

کراچی/ لاہور/ ملتان : ملک بھر میں خصوصاً شہر قائد کے قبرستانوں میں قبر کا حصول مشکل ترین مرحلہ بن گیا ہے، جہاں گورکن من مانی قیمت پر قبر کی جگہ فروخت کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ مہنگائی کے سبب خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے قبروں کو اطراف سے پکا کرانے کی قیمتیں بھی مہنگی ہوگئی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں کراچی لاہور اور ملتان کے نمائندوں نے اپنی رپورٹس میں گورکن مافیا اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں سے متعلق بیان کیا۔

کراچی میں قبرستان بھر گئے 

کراچی کے نمائندے نے بتایا کہ شہر میں قبرستانوں کی کمی سنگین صورت اختیار کر چکی ہے۔ ان پرانے قبرستانوں میں لوگ اپنے پیاروں کی تدفین کیلیے قبر کی زمین گورکنوں کی مرضی سے مہنگے داموں حاصل کرنے پر مجبور ہیں، ہر قبرستان میں قبر کے ریٹ الگ الگ اور جگہ کے حساب سے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کی جانب سے قبر کے لیے سرکاری نرخ تقریباً 1300روپے مقرر ہیں، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ اس نرخ پر قبر کا حصول کسی صورت ممکن نہیں۔

صورتحال یہ ہے کہ بعض علاقوں میں قبر کے حصول کے لیے ہزاروں سے لے کر لاکھوں روپے تک طلب کیے جانے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔

ملتان : تدفین پر 40 سے 50 ہزار روپے تک کے اخراجات

ملتان سے نمائندہ یاسر شیخ نے بتایا کہ شہر میں حکومت براہِ راست قبریں فروخت نہیں کرتی، تاہم قبرستان کمیٹیوں اور متعلقہ افراد کی جانب سے تدفین کے مختلف اخراجات وصول کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک عام تدفین پر اوسطاً 40 سے 50 ہزار روپے تک خرچ آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غریب باپ کے اپنے بیٹے کو بے کفن دفنانے کے لیے لانے کا واقعہ ان کے 25 سالہ صحافتی کیریئر کے سب سے دردناک واقعات میں سے ایک ہے، جس نے معاشرے میں موجود معاشی ناہمواریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

نمائندے کے مطابق کئی خاندان نئی قبر نہ ملنے کی صورت میں اپنے مرحوم عزیزوں کو پہلے سے موجود خاندانی قبروں میں دفنانے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں قبرستانوں کی زمینوں پر تجاوزات بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔

لاہور : مختلف قبرستانوں کے الگ نرخ

لاہور سے نمائندہ حسن حفیظ نے بتایا کہ شہر میں قبرستانوں کے نرخ علاقے اور سہولیات کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ بعض سرکاری قبرستانوں میں نسبتاً کم فیس مقرر ہے، تاہم متعدد مقامات پر قبر کے حصول کے لیے 25 ہزار سے ایک لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم بھی وصول کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض قبرستانوں میں تدفین، غسل، کفن اور قبر کی تیاری سمیت مختلف پیکجز بھی فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ ماربل اور دیگر اضافی تعمیراتی کاموں کی صورت میں اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں ایک عام خاندان کے لیے تدفین کے اخراجات پورے کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق غسل، کفن، ایمبولینس، سردخانے، قبر اور دیگر انتظامات کی مجموعی لاگت بعض اوقات ایک لاکھ روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

ملتان میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا معاشرے کے کمزور اور نادار طبقات کے لیے تدفین کی بنیادی سہولیات کو مزید آسان اور قابلِ رسائی بنانے کی ضرورت نہیں؟



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/02yYxug

No comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();