کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف - Pakiatani Media News

Breaking

Tuesday, 29 September 2026

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

کیا زمین کے دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ زمین کی اندرونی یا بیرونی سرگرمیاں اس کی رفتار پر اثر ڈال رہی ہیں، نئی تحقیق نے سائنسدانوں کو بھی حیران کردیا۔

جدید تحقیق کے مطابق زمین اپنے محور پر گردش کی رفتار میں تبدیلی کی وجہ سے 24 گھنٹے کے دورانیے میں ہمیشہ دن اور رات پورا نہیں کرتی، بلکہ اس میں ملی سیکنڈز کا فرق آتا رہتا ہے۔

زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تیزی کا رجحان سائنسی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں زمین اپنے محور پر معمول سے تھوڑا تیز گھومتی پائی گئی ہے، جس کی وجہ سے کچھ دن 24گھنٹے سے چند ملی سیکنڈ کم ہو سکتے ہیں۔

زمین پر دن رات کا دورانیہ عام طور پر 24 گھنٹے مقرر سمجھا جاتا ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ در حقیقت زمین کی گردش کی رفتار مسلسل معمولی تبدیلیوں سے گزرتی رہتی ہے، جس کے باعث دن کے دورانیے میں ملی سیکنڈز کی سطح پر فرق پیدا ہوتا ہے۔

24 hours long

سائنسی تحقیق کے مطابق زمین کے دن رات کے دورانیے میں یہ معمولی سا اتار چڑھاؤ گزشتہ کئی دہائیوں سے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ زمین کی رفتار میں اس تبدیلی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے زمین کے اندرونی حصے میں ہونے والی حرکت، برفانی تودوں کے پگھلنے سے زمین کے ماس کی ترتیب میں تبدیلی، یا عالمی ماحولیاتی مظاہر جیسے ’ال نینو‘ اور ’لا نینا‘وغیرہ ۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرِ طبیعیات جوڈا لیون کے مطابق اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زمین کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمیں ’لیپ سیکنڈ‘ کو کم کرنا پڑے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے تک ہمیشہ وقت کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے لیپ سکنڈ شامل کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اب پہلی مرتبہ لیپ سکنڈ نکالنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی ممکنہ طور پر 2029 میں ہو سکتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق زمین کے بیرونی مرکزے میں موجود انتہائی گرم مائع دھات مسلسل حرکت کرتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تیزی یا سست روی پیدا ہوسکتی ہے۔

24-hour day isn’t quite as fixed

یونیورسٹی آف البرٹا کے ماہر ارضیات میتھیو ڈمبرّی کے مطابق اندرونی مرکزے کی گردش اور مینٹل میں بے قاعدگیوں کے درمیان یہ تعلق زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے۔

معروف جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے زمین کے اندر کششِ ثقل سے متعلق ایک ایسے میکانزم کی نشاندہی کی ہے جسے انہوں نے اسے ایک طرح کے ’پوشیدہ گیئر‘ سے تشبیہ دی ہے۔

تحقیق کے مطابق زمین کا اندرونی مرکزہ باقی زمین کے مقابلے میں بالکل ایک ہی رفتار سے گردش نہیں کرتا۔ اس فرق کے باعث اندرونی مرکزہ زمین کی بیرونی تہہ، یعنی مینٹل میں موجود کمیت کی بعض بے قاعدگیوں کے مقابلے میں معمولی طور پر غیر متوازن ہوسکتا ہے۔

محققین نے 1964 سے 2019 تک کے عرصے میں زلزلوں سے حاصل ہونے والے تخمینوں اور زمین کے اندر مائع دھات کی حرکت سے متعلق ماڈلز کی مدد سے اس کششِ ثقل کے باہمی تعامل کو دوبارہ تشکیل دیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دن کے دورانیے میں تبدیلی کی واحد وجہ یہی عمل نہیں ہوسکتا اور دیگر عوامل بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم نئی تحقیق نے اس مظہر میں کششِ ثقل کے ایک اہم کردار کی نشاندہی کی ہے۔

کیا 2026 کے اختتام سے قبل دنیا ختم ہو جائے گی؟ 66 سال پرانی پیشگوئی نے سنسنی پھیلادی



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/ep2T6s0

No comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();