اسلام آباد (6 اکتوبر 2026): سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومتی رویے نے آئندہ کسی مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی۔
اپنی رہائش گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملکی سیاست عدم توازن کا شکار ہے ہر طرف سے رویوں میں شدت ہے، حکمرانوں کا حزب اختلاف کے خلاف رویہ ہمارے سامنے ہے، حکومتی رویے کے حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کے حکومت سے مذاکرات ہوئے ہیں، سیاسی و جمہوری لوگ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، مذاکرات کا حصہ نہیں تھے لیکن اصولی طور پر اس سے اختلاف بھی نہیں کرتے، حکومتی رویے نے آئندہ کسی مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی۔
یہ بھی پڑھیں: محمود اچکزئی نے حکومت سے مذاکرات کی اہم شرط بتا دی
انہوں نے کہا کہ کچھ سنی اور مانی جائے، کچھ آپ مان جائیں کچھ ہم مان جائیں یہ سیاسی لہجے میں ہونا چاہیے، کچھ ماننے اور منانے کی سوچ سے مذاکرات کیلیے بیٹھیں گے، اس میں کسی کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، سیاسی لحاظ سے میانہ روی کی طرف جانا چاہیے، سیاسی لوگ مذاکرات کریں تو کسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ مجھے آج آل پارٹیز کانفرنس کی دعوت دی گئی ہے، چاہتے ہیں مشترکہ طور پر اے پی سی بلا کر حکمت عملی بنائی جائے، تمام جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ ایجنڈا مرتب کرنے کی ضرورت ہے، ہم سب پاکستانی ہیں ملک اور آئین کے ساتھ ہیں، کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم ہی وفادار ہیں باقی سب نہیں۔
’ہم نے بھی لانگ مارچ کیا اسلام آباد آئے یہ جمہوری حق ہے۔ آج پی ٹی آئی اسلام آباد آ کر احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتی ہے یہ ان کا اصولی حق ہے۔ الفاظ اور رویوں میں تبدیلی چاہیے چاہتے ہیں کہ سب کا احترام ہو۔ اپوزیشن سے کہا کہ آپ بھی اس پر تفصیلی غور کریں ہم بھی مشاورت کریں گے۔ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کو مفلوج کر دیا گیا۔ ڈی سی صوبائی حکومت کے بغیر دفعہ 144 لگا رہے ہیں۔‘
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/iOuljPY
No comments:
Post a Comment