اسلام آباد : پمز اسپتال آتشزدگی سانحہ کے ذمہ دار معطل افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔
وفاقی وزارتِ قومی صحت نے اسلام آباد کے مرکزی سرکاری اسپتال "پمز” کے نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے واقعات کے سلسلے میں سابق سربراہ پمز اسپتال سمیت 7 ملازمین کے خلاف انضباطی کارروائی شروع کرتے ہوئے انہیں چارج شیٹ لیٹرز جاری کر دیے ہیں۔
اس حوالے ذرائع کا کہنا ہے کہ افسران پر حفاظتی انتظامات میں مبینہ غفلت اور آتشزدگی کے واقعات کے بعد اصلاحی اقدامات یقینی بنانے میں ناکامی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پمز اسپتال ذرائع کے مطابق مذکورہ ملازمین کو سول سرونٹس رولز 2020 کے تحت چارج شیٹ کیا گیا ہے،
جن ملازمین کو چارج شیٹ کیا گیا ہے ان میں پروفیسرعمران سکندر، سابق جے ای ڈی ایم سی ایچ ڈاکٹر مطاہر شاہ، سابق جے ای ڈی نان میڈیکل چوہدری وارث رضا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سابق ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر نوشیلا امجد، سابق ڈی ای ڈی ڈاکٹر انیزہ جلیل، سابق ایچ او ڈی نیونیٹالوجی ڈاکٹر سعدیہ ریاض، اور سابق سینئر رجسٹرار نیو نیٹالوجی ڈاکٹر نگہم نواز کو چارج شیٹ جاری کی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم نے سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے رول 2(1)(سی) اور رول 9 کے تحت کارروائی کی منظوری دی ہے۔
چارج شیٹ کے مطابق 6 جولائی 2026 کو پمز کے خواتین نرسنگ ہاسٹل میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد انتظامی سطح پر مبینہ غفلت برتی گئی۔
ذرائع کے مطابق دستاویزات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو آگ لگنے کی وجوہات، ہاسٹل سے انخلا اور ہنگامی ردعمل سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کے باوجود انہیں دور کرنے کیلئے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں اگست 2026 میں ایک اور قابلِ تدارک واقعہ پیش آیا۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/1ykIzbU
No comments:
Post a Comment