پشاور : جیل کا تصور ذہن میں آتے ہی عام طور پر سادہ سی دال، روٹی اور محدود خوراک کا خیال آتا ہے، تاہم پشاور جیل میں ایسا نہیں یہاں قیدیوں کو بہترین پکوان تیار کرکے کھلکائے جاتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پشاور کی سینٹرل جیل میں قیدیوں کے لیے تیار کیے جانے والے کھانوں کا انداز عام روایتی تصور سے بہت مختلف دکھائی دیتا ہے۔
جیل کے منفرد کچن میں قیدیوں کے لیے روزانہ بڑے پیمانے پر مزیدار اور معیاری کھانوں کی تیاری کا منظم طریقہ کار رائج ہے۔
اس جیل کے کچن کا نظام خود قیدی ہی چلاتے ہیں، مختلف قیدی سبزیوں کی کٹائی، گوشت کی تیاری، روٹیاں بنانے اور ہانڈی پکانے کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کچن میں صبح سویرے ہی کھانے کی تیاری شروع ہوجاتی ہے، یہاں باہر سے لائے گئے باورچیوں کے بجائے سزا یافتہ قیدی کھانا تیار کرنے، اسے پکانے اور بعد ازاں مختلف بیرکوں میں قیدیوں کی تعداد کے مطابق تقسیم کرنے کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔
جیل انتظامیہ کے مطابق قیدیوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے مینیو میں مختلف اشیا شامل ہوتی ہیں۔ ایک وقت کے کھانے میں چکن بھی دیا جاتا ہے، جبکہ دیگر اوقات میں چاول اور مختلف پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔
جیل کچن کے عملے کے مطابق خوراک کی مقدار اور معیار پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے، ایک قیدی کو تقریباً 100 گرام چکن فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ آٹے کی مقدار بھی مقررہ پیمانے کے مطابق ہوتی ہے۔ بتایا گیا کہ ایک قیدی کے لیے تقریباً 250 گرام آٹا مختص کیا جاتا ہے، جس سے تقریباً 340 سے 350 گرام وزن کی روٹی تیار ہوتی ہے۔
پشاور سینٹرل جیل میں قیدیوں کی مجموعی تعداد 3 ہزار 500 سے بڑھ کر 4 ہزار تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد کے لیے روزانہ کھانا تیار کرنا جیل انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/mzNo9xg
No comments:
Post a Comment