روس نے گندم کے بدلے پاکستان سے زرعی اجناس کی درآمدات میں اضافے کی خواہش کا اظہار کردیا۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق طارق بشیر چیمہ سے روسی وفد نے ملاقات کی، جس میں دونوں اطراف سے زرعی شعبے میں تعاون اور شراکت داری کے ممکنہ مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی وفد میں پروڈنٹ نمائندے یوسف آصف اور حامد علی، ایگریکلچر اتاشی الیکسی کدریاوٹسیف اور اتاشی روسی ایمبیسی الیگزینڈر شامل تھے۔

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے زرعی شعبے کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاری کا حتمی تخمینہ کا ابھی انتظار ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری بحالی کے مرحلے میں پاکستان کی مدد کرے، ان کی حکومت متاثرہ کسان برادری کی مدد کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
روسی نمائندے یوسف آصف نے کہا کہ پاکستان اور روس زراعت میں تجارتی تعاون بڑھانے سے باہمی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں، روس گندم کا سب سے بڑا عالمی برآمد کنندہ ہے اور گندم کی مقامی طلب کو پورا کرنے میں پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی چاول اچھے معیار کے ہیں اور روس پاکستان سے چاول کی درآمد بڑھانے کا منتظر ہے، روس پاکستان میں چاول کے مجاز برآمد کنندگان کی تعداد میں اضافہ کررہا ہے۔
یوسف آصف نے پاکستان سے آلو درآمد کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی اور بتایا کہ روس آلو کا بڑا درآمد کنندہ ہے۔
روسی وفد نے پاکستان کیلئے گندم درآمد کرنے کی پیشکش کی تاکہ فوڈ سیکیورٹی کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے بارٹر ٹریڈ کی صورت میں فوڈ باسکٹ کموڈٹیز کا تبادلہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔
روس کے ایگریکلچر اتاشی الیکسی کدریاوٹسیف نے امید ظاہر کی کہ زراعت میں باہمی طور پر فائدہ مند تعاون دونوں ممالک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
from Samaa - Latest News https://ift.tt/hoVwfax
via IFTTT
No comments:
Post a Comment