ضمنی انتخابات: کہاں کہاں کون مدمقابل ۔ ۔ ۔؟؟؟ - Pakiatani Media News

Breaking

Saturday, 15 October 2022

ضمنی انتخابات: کہاں کہاں کون مدمقابل ۔ ۔ ۔؟؟؟

قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ ہو رہی ہے۔ تحریک انصاف تمام تر تحفظات کے باوجود انتخابی عمل کا حصہ ہے۔

قومی اسمبلی کی جن 8 نشستوں پر ضمنی انتخاب ہورہے ہیں ان میں سے 7 پر پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان جب کہ ایک پر شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مدمقابل ہیں۔

این اے 22 مردان:

این اے 22 مردان کی نشست پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

حلقے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں عمران خان کا مقابلہ پی ڈی ایم کے مشترکہ امیداور مولانا قاسم خان سے ہے۔

این اے 24 چارسدہ:

2018 کے عام انتخابات میں این اے 24 سے پی ٹی آئی کے فضل محمد کامیاب ہوئے تھے تاہم یہ نشست ان کے استعفے کی منظوری کے بعد خالی ہوئی تھی۔

این اے 24 چارسدہ کی نشست پر عمران خان امیدوار ہیں اور ان کے مدمقابل عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان مدمقابل ہیں، جنہیں موجودہ وفاقی حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

این اے 31 پشاور:

2018 کے عام انتخابات میں این اے 31 پشاور سے تحریک انصاف کے شوکت علی کامیاب ہوئے تھے۔

شوکت علی کے استعفے کے بعد یہ نشست خالی قرار دی گئی تھی ، اس نشست پر بھی سابق وزیر اعظم عمران خان تحریک انصاف کے امیدوار ہیں اور ان کے مدمقابل عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما غلام احمد بلور سمیت آٹھ امیدوار موجود ہیں۔

این اے 108 فیصل آباد:

قومی اسمبلی کی نشست این اے 108 تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب کے استعفے کی منظوری پر خالی ہوئی تھی۔

این اے 108 پر پاکستان تحریک انصاف سے عمران خان کے مدمقابل مسلم لیگ ن سے عابد شیر علی ہیں۔

این اے 118 ننکانہ صاحب:

اس حلقے سے 2018 کے عام انتخابات میں اعجاز شاہ کامیاب ہوئے تھے اور مسلم لیگ (ن) کی شذرہ منصب ڈھائی ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئی تھیں۔

اعجاز شاہ کے استعفے کی منظوری کے بعد اب یہاں ضمنی انتخاب ہورہے ہیں اور مجموعی طور پر 8 امیدوار مدمقابل ہیں لیکن اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) کی شذرہ منصب اور پی ٹی آئی کے عمران خان کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔

این اے 157 ملتان:

2018 کے عام انتخابات میں این اے 157 سے تحریک انصاف کے وائس چئیر مین شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کامیاب ہوئے تھے لیکن رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے پر انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی تھی۔

این اے 157 پر پی ٹی آئی کی مہر بانو قریشی اور پیپلز پارٹی کے علی موسیٰ گیلانی میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔

این اے 237 ملیر:

این اے 237 کی نشست پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی جمیل احمد خان کے استعفے کے باعث خالی ہوئی تھی۔

کراچی کے این اے 237 سے عمران خان اور پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

این اے 239 کورنگی:

قومی اسمبلی کی نشستوں این اے 239 سے 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے محمد اکرم چیمہ کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔

این اے 239 میں عمران خان کا مقابلہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے نیئر رضا اور تحریک لبیک پاکستان کے محمد یاسین سے ہوگا۔

پنجاب اسمبلی کے جن حلقوں میں انتخاب ہو رہا ہے وہ یہ ہیں:

پی پی 139 شیخوپورہ:

2018 کے عام انتخابات میں جلیل احمد شرقپوری (ن) لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔

جلیل احمد شرقپوری نے وزارتِ اعلیٰ کے انتخاب سے ایک روز قبل اپنے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس حلقے سے جلیل شرقپوری کے قریبی عزیز ابو بکر شرقپوری کو میدان میں اتارا ہے جب کہ ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے افتخار احمد بھنگو ہیں۔

پی پی 209 خانیوال:

پی پی 209 کی نشست نشست مسلم لیگ (ن)کے رکن اسمبلی فیصل نیازی کے استعفے سے خالی ہوئی تھی جو ضمنی انتخاب میں اب تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔

فیصل نیازی کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے ضیا الرحمان میدان میں ہیں جب کہ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار کی پوزیشن بھی مستحکم ہے۔

پی پی 241 بہاولنگر:

2018 کے عام انتخابات میں پی پی 241 سے مسلم لیگ (ن) کے کاشف محمود کامیاب ہوئے تھے تاہم جعلی ڈگری پر انہیں نااہل قرار دیا گیا تھا۔

پی پی 241 پر مسلم لیگ ن کے امان اللہ باجوہ کا مقابلہ تحریک انصاف کے ملک محمد مظفر سے ہے۔



from Samaa - Latest News https://ift.tt/rfsgkpA
via IFTTT

No comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();