چہرے کے عجیب و غریب تاثرات کے بعد صبا قمر پر بوٹوکس کروانے کا الزام لگ گیا - Pakiatani Media News

Breaking

Saturday, 1 November 2025

چہرے کے عجیب و غریب تاثرات کے بعد صبا قمر پر بوٹوکس کروانے کا الزام لگ گیا

کراچی کو تنقید کا نشانہ بنانے والی اداکارہ صبا قمر پر بھی بوٹوکس کروانے کے الزامات لگ گئے، نئی کلپ سامنے آنے کے بعد افواہیں زور پکڑ گئیں۔

بوٹوکس اور لِپ فلرز کروانے کے الزامات کا سامنا کرنے والی اداکارہ صبا قمر نے حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں کراچی سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، کراچی منتقل ہونے سے متعلق سوال پر صبا قمر کے جواب مداحوں اور کراچی کے شہریوں کو ناراض کردیا تھا۔

پوڈ کاسٹ کے دوران صبا قمر نے کہا تھا کہ اگر کوئی بھی پراجیکٹ کراچی میں ہو تو پلیز اس کو اسلام آباد شفٹ کر دیں۔

اس دوران میزبان نے ان سے کراچی شفٹ ہونے سے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ’استغفراللہ‘ ساتھ ہی انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’کہتے ہیں کہ ایسا نہیں کہنا چاہیے کچھ پتا نہیں ہوتا۔‘

تاہم اب نجی چینل سے نشر ہونے والے ڈرامے پامال کے ایک سین کی وجہ سے ان پر بوٹوکس اور لپ فلرز کروانے کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، ایک سین کے دوران وہ روتے ہوئے کافی عجیب لگ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’کراچی کی وجہ سے لاہور کے فنکاروں کو پہچان ملی‘ مشی خان کا صبا قمر کے بیان پر سخت ردعمل

ناظرین اور سوشل میڈیا صارفین کہہ رہے ہیں کہ 41 سالہ اداکارہ کی ظاہری شکل و صورت اور چہرے کے تاثرات سے لگتا ہے کہ انھوں نے بوٹوکس اور لپ فلرز کروا رکھے ہیں۔

صارفین نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی عمر سے بھی زیادہ بڑی دکھائی دے رہی ہیں، صبا قمر کی عمر اب واضح دکھائی دے رہی ہے اور بوٹوکس کے اثرات ان کے چہرے پر نمایاں ہو رہے ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے ان کی ایکٹنگ پر بھی فرق پڑ رہا ہے، دبئی میں رہنے والے ڈاکٹر نے صبا قمر کے ’بوٹوکس کرائنگ‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

وائرل پیغام میں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ صبا نے معمولی بوٹوکس کروایا ہے اور ان کے چہرے پر باریک جھریاں موجود ہیں اسی سبب رونے کے دوران تاثرات یکسر مختلف نظر آرہے ہیں۔

کراچی سے متعلق بیان پر تنقید، صبا قمر نے خاموشی توڑ دی



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/VmOGHUE

No comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();