رمضان المبارک میں روزے رکھنے اور دن بھر گھر کے کاموں اور باورچی خانے کی مصروفیات کے باعث خواتین کی جلد بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے، جس پر قابو پانا زیادہ مشکل نہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق روزہ نہ صرف روحانی فوائد رکھتا ہے بلکہ صحت پر بھی مثبت اثر مرتب کرہے، روزہ رکھنے سے جسم کے قدرتی شفایابی کے عمل متحرک ہوتے ہیں جو جلد کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر امراض جِلد ڈاکٹر عنبرین فاطمہ نے بتایا کہ ماہ رمضان میں روز مرہ کے معمولات اور طرز زندگی میں تبدیلی سے بہت فرق پڑتا ہے۔
جلد کو ترو تازہ رکھنے میں سب سے اہم کردار غذا کا ہے اور یہ کہ آپ سحر اور افطار میں کیا کھا پی رہے ہیں۔
روزے کے دوران پانی کی کمی اکثر جلد کو خشک اور بے جان بنا دیتی ہے، کئی گھنٹے بھوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے عام دنوں کے مقابلے میں جلد کا زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرآپ کی اسکن آئلی ہے تو آپ کو واٹر بیس کلینزر اور واٹر بیس موئسچرائزر استعمال کریں۔
ایک سوال کے جواب ان کا کہنا تھا کہ روزے میں ڈی ہائیڈریشن کے باعث ہونے والی کمزوری کو دور کرنے کیلیے سحر و افطار میں دہی فروٹس اور پانی کا استعمال اچھے سے کریں۔ اس کے علاوہ کھجور، ناریل کا پانی یا او آر ایس بھی پئیں۔
یہ عمل خلیوں کی مرمت، ہارمونز کا توازن اور آنتوں کی صحت میں بہتری لاتا ہے، جس سے جلد زیادہ تروتازہ اور چمک دار نظر آتی ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/FYSMH3k
No comments:
Post a Comment