تہران : امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر تباہ کن حملوں کے باوجود تہران میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں معمول کی زندگی رواں دواں ہے، امریکی نیوز چینل سی این این کے رپورٹر نے کئی گھنٹے گھومنے کے بعد شہر کا آنکھوں دیکھا حال بتا دیا۔
انہوں نے پرسکون ماحول میں کافی پیتے ہوئے بتایا کہ تہران شہر کے تمام کاروباری مراکز اور علاقوں کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں، ان دکانوں پر کافی، تازہ سبزیوں اور اشیائے خوردونوش سمیت سب کچھ دستیاب ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق صحافی نے بتایا کہ یہاں گیس اسٹیشنز بھی کھلے ہیں جہاں لوگوں کو گیس بھی باآسانی میسر ہے، فی الحال شہر یا شہریوں میں کہیں قسم کا کوئی تناؤ نظر نہیں آ رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ اس وقت ایران میں امریکی زمینی فوج تعینات کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔
موجودہ حالات میں زمینی کارروائی پر غور کرنا وقت کا ضیاع ہوگا اور فی الحال ایران کے خلاف امریکی فوج کی کارروائی فضائی اور کاؤنٹر سٹریٹجک آپریشنز تک محدود رہے گی۔
ادھر ایران کے پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نے خبردار کیا ہے کہ ایران دشمن کے لیے ایسے اسٹریٹجک ہتھیار تیار کر رہا ہے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے گئے، ابھی ہتھیاروں کا صرف معمولی حصہ ہی استعمال کیا گیا ہے اور دشمن کو مستقبل میں شدید اور تکلیف دہ وار کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/rdKfYCM
No comments:
Post a Comment