طاعون کی وبا ہزاروں سال قبل کیسے پھیلی؟ قبرستان سے ملنے والے حیران کن شواہد - Pakiatani Media News

Breaking

Wednesday, 17 June 2026

طاعون کی وبا ہزاروں سال قبل کیسے پھیلی؟ قبرستان سے ملنے والے حیران کن شواہد

سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ 14ویں صدی میں طاعون جیسی خطرناک وبا یورپ سے ایشیائی خطے میں پہلی بار آئی جو ممکنہ طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں پھیلی۔

تاریخ کی کتابوں میں طاعون کی پہلی ریکارڈ شدہ اور سب سے بڑی وبا تقریباً 541 ساڑھے 5 ہزار سال قبل جسٹینن کے نام سے پھیلی تھی، جس نے سائبیریا میں ہزاروں بچوں اور نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔

یہ بازنطینی (رومن) سلطنت میں شروع ہوئی اور اس نے ایشیا، شمالی افریقہ اور یورپ کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تقریباً ڈھائی کروڑ افراد کی جان لے لی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق تاریخ میں طاعون کی دو بڑی وبائیں، چھٹی صدی کی "پلیگ آف جسٹینین” اور چودھویں صدی کی "بلیک ڈیتھ”، یورپ کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی ہلاکت کا سبب بنی تھیں۔

سائنسدانوں نے دنیا کی قدیم ترین معلوم طاعون (پلیگ) کی وبا کا سراغ لگاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 5 ہزار 500 سال قبل سائبیریا کے جھیل بائیکال کے علاقے میں رہنے والے شکاری قبائل اس مہلک بیماری کا شکار ہوئے تھے، جبکہ اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بچے اور نوعمر افراد شامل تھے۔

ماہرین کے مطابق اس وقت چوہوں کے کاٹنے سے یہ جراثیم انسانوں میں منتقل ہوتے تھے، بعد ازاں یہی بیماری جانوروں کے ذریعے بھی انسانوں میں منتقل ہوئی۔

بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے جھیل بائیکال کے قریب واقع چار قدیم قبرستانوں سے ملنے والی انسانی باقیات کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا، جس سے یرسینیا پیسٹس (Yersinia pestis) نامی بیکٹیریا کے قدیم ترین شواہد سامنے آئے۔ یہی بیکٹیریا بعد میں تاریخ کی بدنام زمانہ طاعون وباؤں، بشمول "بلیک ڈیتھ”، کا سبب بنا۔

محققین کے مطابق 46 انسانی باقیات میں سے 18 میں طاعون کے آثار پائے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس دور میں وبا بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی، حیران کن طور پر متاثرین میں بڑی تعداد بچوں اور کم عمر افراد کی تھی۔

تحقیق کے سینئر مصنف اور جامعہ کوپن ہیگن و جامعہ کیمبرج سے وابستہ ماہرِ جینیات پروفیسر ایسکے ویلیس لیو کا کہنا ہے کہ یہ دریافت طاعون کی ابتدا اور انسانی تاریخ پر اس کے اثرات کے بارے میں موجود تصورات کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس قدیم طاعون میں وہ جینیاتی خصوصیات موجود تھیں جو بعد کی وباؤں میں نہیں پائی گئیں۔ ان خصوصیات کے باعث بچوں میں شدید سوزش اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں، جس سے کم عمر افراد کی شرح اموات زیادہ رہی۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس دور کے شکاری قبائل مارموٹ نامی چوہے نما جانوروں کے قریب رہتے اور انہیں خوراک کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہی جانور اس بیماری کے اصل میزبان تھے اور غالب امکان ہے کہ انسانوں میں بیماری کا انتقال متاثرہ مارموٹ کو سنبھالنے یا اس کا گوشت کھانے کے دوران ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ نظریہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ طاعون جیسی بڑی وبائیں صرف زرعی معاشروں اور گنجان آباد بستیوں میں ہی جنم لے سکتی تھیں۔

شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ دور دراز جنگلات میں رہنے والے چھوٹے شکاری گروہ بھی اس مہلک بیماری کی لپیٹ میں آسکتے تھے۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/Ouc3KM1

No comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();