اسلام آباد : پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مطیع اللہ حق نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیئرز کا غیر معمولی طور پر آگے بڑھنا یا تیزی سے سکڑنا، دونوں ہی صورتیں سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گلیشیئرز کا سکڑنا (پگھلنا) یا آگے بڑھنا دونوں صورتحال ماحولیاتی اعتبار سے شدید خطرات کا باعث ہیں، جس سے قریبی آبادیوں اور میدانی علاقوں کو تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گلیشیئرز میں اس تبدیلی کے سبب خطرناک برفانی جھیلیں بن جاتی ہیں ان جھیلوں کے کناروں کے ٹوٹنے سے شدید سیلاب آتے ہیں جو راستے میں آنے والے ہر گاؤں اور انفراسٹرکچر کو بہا کر لے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز میں حالیہ تبدیلی نہ صرف سیلاب کا خطرہ بڑھا رہی ہے بلکہ مستقبل میں پانی کی شدید قلت بھی پیدا کرسکتی ہے۔
ڈاکٹر مطیع اللہ حق نے کہا کہ ماضی میں شِشپر گلیشیئر کے آگے بڑھنے سے پانی کا قدرتی راستہ بند ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک جھیل وجود میں آئی۔ بعد ازاں یہ جھیل دو مرتبہ پھٹ گئی، جس سے نیچے کے علاقوں اور قراقرم ہائی وے کو نقصان پہنچا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے دریاؤں میں بہنے والے پانی کا تقریباً 70 فیصد حصہ گلیشیئرز سے حاصل ہوتا ہے، اگر گلیشیئرز مسلسل سکڑتے رہے تو ابتدا میں زیادہ برف پگھلنے کی وجہ سے دریاؤں میں پانی اور سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، تاہم طویل مدت میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہوجائے گا اور ملک ایک قیمتی آبی ذخیرے سے محروم ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر مطیع اللہ حق کے مطابق گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی بنیادی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلی، عالمی حدت، فضائی آلودگی اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلیک کاربن گلیشیئرز کی سطح پر جم کر سورج کی حرارت زیادہ جذب کرتا ہے، جس سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیاحت کو مکمل طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم گلیشیئرز والے علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی کو کم سے کم رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق فضائی آلودگی دور دراز علاقوں سے بھی ہواؤں کے ذریعے گلیشیئرز تک پہنچ سکتی ہے اور ان پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
سپارکو کے ڈائریکٹر نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ملک بھر میں شجرکاری بڑھانے، جنگلات کی کٹائی روکنے اور نئے جنگلات لگانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ درخت کاربن جذب کرکے ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے گلوبل وارمنگ کے اثرات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/CZF3EjT
No comments:
Post a Comment