پشاور : خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ گورنر راج دراصل ہوتا کیا ہے؟
گورنر راج کے صوبے کے انتظامی امور پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آئینی طور پر اسے کن حالات میں نافذ کیا جاسکتا ہے؟
پاکستان کے ہر صوبے میں ایک منتخب صوبائی حکومت ہوتی ہے جس کا سربراہ ایک وزیراعلیٰ ہوتا ہے۔ عام حالات میں صوبے کے انتظامی معاملات اور حکومتی امور وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ چلاتی ہے، جبکہ صوبائی حکومت صوبائی اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔
تاہم اگر کسی صوبے میں ایسی آئینی صورتحال پیدا ہوجائے جس میں صوبائی حکومت آئین کے مطابق صوبے کا نظام چلانے کے قابل نہ رہے تو وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کرسکتی ہے۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کے معمول کے اختیارات متاثر ہوتے ہیں اور صوبے کے انتظامی معاملات میں گورنر کا کردار نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے، اس دوران صوبے کے انتظامی امور گورنر کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت بھی صوبے کے معاملات میں زیادہ براہ راست کردار ادا کرتی ہے۔
آئینی طور پر گورنر راج کا بنیادی مقصد ایسی غیر معمولی صورتحال سے نمٹنا ہے جب صوبائی حکومت آئینی نظام کے مطابق امورِ حکومت چلانے میں ناکام ہوجائے۔ یعنی یہ اقدام عام سیاسی اختلاف یا حکومت کی محض کمزور کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئینی بحران کی مخصوص صورتحال میں اٹھایا جاتا ہے۔
آرٹیکل 234 کیا کہتا ہے؟
آئین پاکستان کا آرٹیکل 234 اس وقت کے لیے طریقہ کار فراہم کرتا ہے جب صدر کو گورنر کی رپورٹ یا دیگر ذرائع سے یہ اطمینان ہوجائے کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق صوبے کا نظام نہیں چلا سکتی۔
FOLLOW ARY TUBE FOR MORE SUCH NEWS
ایسی صورتحال میں صدر ایک اعلامیے کے ذریعے صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں یا انہیں گورنر کو تفویض کرسکتے ہیں، یوں صوبے کے انتظامی معاملات میں وفاق کا کردار بڑھ جاتا ہے۔
گورنر راج ایک غیر معمولی آئینی انتظام ہے، جس کا مقصد صوبے میں پیدا ہونے والے آئینی بحران کا حل نکالنا اور حکومتی نظام کو دوبارہ آئینی راستے پر لانا ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی، سیاسی اور قانونی معاملات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/1EDCOHQ
No comments:
Post a Comment