پشاور : ٹی وی چینلز پر دکھائی جانے والی بریکنگ نیوز کے پیچھے کیا ہوتا ہے؟ حادثات اور بڑے واقعات کی کوریج میں صحافیوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
دہشت گردی کے کسی بھی واقعے، بم دھماکے، عمارت منہدم ہونے یا کسی بڑے حادثے کی خبر سامنے آتے ہی ٹی وی اسکرینوں پر بریکنگ نیوز چلنا شروع ہوجاتی ہے لیکن چند سیکنڈز میں ناظرین تک پہنچنے والی اس خبر کے پیچھے رپورٹرز، کیمرہ مین، ڈی ایس این جی عملے اور ڈرائیورز کی ایک مشکل اور بعض اوقات خطرناک جدوجہد ہوتی ہے۔
اے آر وائی نیوز پشاور کے بیورو چیف ضیا الحق کی رپورٹ کے مطابق جب کسی ایسے واقعے میں انسانی جانیں متاثر ہوں یا بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوں تو سب سے پہلے نیوز ٹیمیں جائے وقوعہ کا رخ کرتی ہیں، جہاں سے واقعے کی ابتدائی معلومات اور مناظر حاصل کیے جاتے ہیں۔
اس حوالے سے صحافیوں کو کہنا ہے کہ واقعے کے بعد زخمیوں کو منتقل کیے جانے والے بڑے سرکاری یا نجی اسپتالوں کی ایمرجنسی بلاکس کا رخ کیا جاتا ہے تاکہ زخمیوں کی تعداد، ان کی حالت اور ہلاکتوں سے متعلق معلومات کی تصدیق کی جاسکے۔
تاہم اصل مشکل اس وقت شروع ہوتی ہے جب صحافی جائے وقوعہ یا اسپتال پہنچتے ہیں، صحافیوں کا کہنا ہے کہ کسی بڑے واقعے کے بعد درست معلومات کا حصول آسان نہیں ہوتا، کیونکہ مختلف اداروں سے ملنے والے اعداد و شمار اکثر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
پشاور میں کام کرنے والے صحافیوں نے بتایا کہ بڑے حادثات یا دہشت گردی کے واقعات کے دوران ٹریفک بھی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔
عام شہریوں کے ساتھ ساتھ میڈیا ٹیموں کو بھی شدید ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث جائے وقوعہ یا اسپتال تک بروقت پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
اس کے بعد زخمیوں اور جاں بحق افراد کی تعداد کی تصدیق ایک الگ چیلنج بن جاتی ہے، پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار اور اسپتال انتظامیہ کی معلومات میں بعض اوقات فرق ہوتا ہے، جس سے نیوز روم میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے۔
صحافیوں کے مطابق ایک ہی واقعے میں چند گھنٹوں کے دوران ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کئی مرتبہ تبدیل ہوجاتی ہے، جس کے باعث کسی بھی اطلاع کو نشر کرنے سے پہلے اس کی دوبارہ تصدیق ضروری ہوجاتی ہے۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ بڑے واقعات میں جائے وقوعہ پر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے باعث میڈیا کو بعض اوقات آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس صورتحال میں رپورٹرز کے لیے براہ راست معلومات، عینی شاہدین کے بیانات اور واقعے کی تفصیلات حاصل کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ اسپتالوں میں بھی میڈیا کو اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اسپتالوں میں پہلے ہی میڈیا کی اندرونی کوریج پر پابندی عائد کردی جاتی ہے، جس کے باعث رپورٹرز کو اسپتال کے باہر کھڑے ہوکر معلومات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ بعض ہنگامی حالات میں موبائل فون نیٹ ورک بھی متاثر ہوجاتا ہے، جس سے براہ راست کوریج اور نیوز روم سے رابطہ مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
صحافیوں نے تجویز دی کہ بڑے حادثات اور ہنگامی صورتحال کے دوران اسپتال انتظامیہ کو ایمرجنسی کے قریب ایک مخصوص میڈیا انفارمیشن ڈیسک قائم کرنا چاہیے، جہاں سے صحافیوں کو تصدیق شدہ معلومات فراہم کی جائیں۔ اس اقدام سے نہ صرف میڈیا کو درست اعداد و شمار حاصل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں کے پھیلاؤ کو بھی روکا جاسکے گا۔
صحافیوں کے مطابق بریکنگ نیوز کے دوران نیوز روم سے مسلسل دباؤ بھی موجود ہوتا ہے۔ جائے وقوعہ پر موجود ٹیم سے بار بار تازہ ترین اطلاعات، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد اور براہ راست ویڈیو مانگی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب فیلڈ ٹیم کو ہر اطلاع کی تصدیق بھی کرنا ہوتی ہے۔
صحافیوں نے بتایا کہ کسی بڑے واقعے کے دوران رپورٹر، کیمرہ مین، ڈی ایس این جی عملہ اور ڈرائیور معمول کے حالات میں کام نہیں کررہے ہوتے بلکہ ایک طرح سے مسلسل ہنگامی حالت میں کام کرتے ہیں۔ انہیں فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچنا، حقائق جمع کرنا، ویڈیو اور تصاویر حاصل کرنا، معلومات کی تصدیق کرنا اور پھر یہی معلومات ناظرین تک پہنچانا ہوتی ہیں۔
یوں ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والی چند سیکنڈ کی بریکنگ نیوز کے پیچھے صحافیوں اور تکنیکی عملے کی طویل، مشکل اور دباؤ سے بھرپور محنت شامل ہوتی ہے، جس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں ناظرین تک تیز ترین مگر درست اور تصدیق شدہ خبر پہنچائی جاسکے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/i9SnDzj
No comments:
Post a Comment