کراچی (24 اکتوبر 2026): صارفین کی جانب سے بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی اور بجلی چوری کی روک تھام کیلیے اقدامات کے نتیجے میں کراچی کے متعدد علاقوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔
کے-الیکٹرک نے سہ ماہی جائزے کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار پانے والے علاقوں میں درمیانے درجے کے نقصانات گھٹ کر کم درجے کے نقصانات کی کیٹیگری میں منتقل ہونے والے نمایاں علاقوں میں کورنگی کے بعض علاقے شامل ہیں، جن میں عبداللہ شاہ نورانی کالونی، پاک اتحاد کالونی، زمان ٹاؤن اور سیکٹرز 48 A,B,C,D, اور E شامل ہیں۔
اسی طرح عزیزآباد میں فیڈرل بی ایریا بلاک 2 اور 8، بھنگوریہ گوٹھ، بلاک 9 یاسین آباد اور نعمت کالونی بھی اس کیٹیگری میں شامل ہوگئے۔
دیگر علاقوں میں کیانی شہید، رینڈل روڈ، اے پی ڈبلیو اے کمپلیکس روڈ، جوبلی کلاتھ مارکیٹ اور جیکب لائنز کا بلتستانی محلہ شامل ہیں۔
شاہ عبداللطیف بھٹائی کالونی، الطاف ٹاؤن اور دیہہ ڈیہہ، ٹاپو ابراہیم حیدری گوٹھ کے علاقے بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔
سائٹ ایریا کے بعض حصے اور سرجانی ٹاؤن کے سیکٹرز L-1 اور 5-D بھی کم نقصانات کی کیٹیگری میں منتقل ہوگئے۔
کے-الیکٹرک کے مطابق یہ پیشرفت مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات میں کمی اور مقامی نمائندوں کے ساتھ رابطوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ صارفین کو بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی کی ترغیب دینے اور اس ضمن میں سہولت فراہم کرنے کے اقدامات نے بھی متعلقہ فیڈرز کی کارکردگی اور درجہ بندی میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسی طرح زیادہ نقصانات سے درمیانے نقصانات کی کیٹیگری میں منتقل ہونے والے علاقوں میں سعدات کالونی، موریا خان گوٹھ، سولجر بازار، ٹگور اسٹریٹ، امین آباد سوسائٹی اور جمشید ٹاؤن کے مارٹن کوارٹرز شامل ہیں، جہاں اب لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی آئے گی۔ اسی نوعیت کی بہتری اور کیٹیگری میں تبدیلی اورنگی ٹاؤن کے بعض علاقوں، بشمول خواجہ غریب نواز، ملت کالونی، مدینہ کالونی اور المصطفیٰ کالونی میں بھی دیکھنے میں آئی۔
دریں اثنا، کے-الیکٹرک کے سروس ایریا کا تقریباً 70 فیصد حصہ لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ برقرار ہے، جس میں 2,100 سے زائد فیڈرز شامل ہیں۔ لوڈشیڈنگ کا تازہ ترین شیڈول کے-الیکٹرک کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ صارفین کے-الیکٹرک لائیو ایپ اور کے-الیکٹرک کی واٹس ایپ سروس کے ذریعے بھی تازہ ترین معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ نیٹ ورک کا گزشتہ سہ ماہی جائزہ جولائی 2026 میں کیا گیا تھا۔
کے-الیکٹرک کے ترجمان عمران رانا نے کہا کہ کے-الیکٹرک اپنے صارفین کو بجلی کی قابلِ اعتماد اور بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ مختلف آبادیوں کی جانب سے سامنے آنے والی بہتری اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی اور لائن لاسز میں کمی کے لیے باہمی تعاون کس قدر اہم ہے۔ اس اہم سنگِ میل کا حصول نہ صرف کے-الیکٹرک بلکہ مقامی رہائشیوں، علاقائی نمائندوں اور منتخب عوامی نمائندوں کی بھی کامیابی ہے، جنہوں نے بجلی چوری کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کمپنی کا ساتھ دیا۔
کے-الیکٹرک شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے نیٹ ورک کا جامع اور اعداد و شمار پر مبنی سہ ماہی جائزہ لیتی ہے۔ کمپنی ان کمیونٹی نمائندوں اور منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ تعاون کے لیے بھی پُرعزم ہے جو بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی کی راہ میں حائل مسائل کے حل کے لیے ادارے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔
مالی سال 2026-27 کے آغاز سے اب تک کے-الیکٹرک نے بجلی کی غیر قانونی کنڈے ہٹانے کے لیے تقریباً 5,000 کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں بجلی چوری کے لیے استعمال ہونے والی 44,000 کلوگرام سے زائد غیر قانونی تاریں ہٹائی جا چکی ہیں۔ کے-الیکٹرک کے ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کمپنی بجلی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ فعال طور پر تعاون کر رہی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بجلی چوری کی شرح زیادہ ہونے والے علاقوں کی مسلسل نگرانی جاری رہے گی اور اگلے سہ ماہی جائزے تک یہ عمل برقرار رکھا جائے گا۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/DEtvoLS
No comments:
Post a Comment