لندن: عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ہر غذا ایک مخصوص مدت کے بعد خراب ہوجاتی ہے، تاہم دنیا میں کچھ ایسی غذائیں بھی موجود ہیں جو مناسب حالات میں کئی برس بلکہ بعض صورتوں میں تقریباً غیر معینہ مدت تک قابلِ استعمال رہ سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان غذاؤں کو درست درجہ حرارت، نمی اور روشنی سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ ان غذاؤں میں شہد نمایاں ہے۔ خالص شہد کو اچھی طرح بند کرکے نمی سے محفوظ رکھا جائے تو یہ انتہائی طویل عرصے تک قابلِ استعمال رہ سکتا ہے۔ اس کا جم جانا یا رنگ گہرا ہوجانا لازماً خراب ہونے کی علامت نہیں۔
سفید چاول بھی ٹھنڈی اور خشک جگہ پر ہوا بند برتن میں رکھے جائیں تو کئی دہائیوں تک محفوظ رہ سکتے ہیں، جبکہ بھورے چاول میں موجود قدرتی تیل انہیں نسبتاً جلد خراب ہونے کے قابل بناتے ہیں۔
نمک اور چینی بھی طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی اشیا میں شامل ہیں۔ نمک نمی سے محفوظ رہے تو خراب نہیں ہوتا، جبکہ چینی کو کیڑوں اور پانی سے دور رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح کارن اسٹارچ بھی مناسب طریقے سے محفوظ کرنے پر کئی سال تک قابلِ استعمال رہ سکتا ہے۔
سرکہ میں موجود تیزابی اجزا اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور اس کی شیلف لائف تقریباً غیر معینہ سمجھی جاتی ہے۔ بعض اوقات رنگ میں تبدیلی آسکتی ہے، تاہم یہ لازماً خرابی کی علامت نہیں۔
خشک لوبیا بھی طویل عرصے تک ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ کئی برس بعد اس کا ذائقہ اور پکنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، تاہم مناسب حالات میں یہ طویل عرصے تک کھانے کے قابل رہ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ سویا ساس، خشک پھل، پاپ کارن کے خشک دانے، انسٹنٹ کافی، خالص ونیلا ایکسٹریکٹ اور ملک پاؤڈر بھی نسبتاً طویل مدت تک محفوظ رہنے والی غذاؤں میں شامل ہیں۔ تاہم میپل سیرپ، کینولا آئل، ناریل کا تیل اور پروٹین پاؤڈر کو ہمیشہ کے لیے محفوظ سمجھنا درست نہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی غذا کی طویل شیلف لائف کا انحصار صرف اس کی نوعیت پر نہیں بلکہ پیکنگ اور ذخیرہ کرنے کے طریقے پر بھی ہوتا ہے۔ پھولا ہوا، رسنے والا یا شدید زنگ آلود ڈبہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، جبکہ بدبو، غیر معمولی رنگ یا ذائقے میں واضح تبدیلی بھی غذا کے خراب ہونے کی علامت ہوسکتی ہے۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/HkS89Ag
No comments:
Post a Comment