سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ ہائی کورٹس میں ناقابل چیلنج ہونے کا بڑا فیصلہ سنا دیا۔ سابق جج عظیم خان آفریدی کی عدم مستقلی کیخلاف اپیل مسترد کردی گئی۔
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے مستقل نہ کئے جانے کیخلاف سابق جج کی اپیل پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بڑا فیصلہ سنادیا۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ ہائی کورٹس میں چیلنج کیا ہی نہیں جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے سابق جج عظیم خان آفریدی کی مستقل نہ ہونے کیخلاف اپیل مسترد کردی اور کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ درست اور قانون کے مطابق ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن کے تحریر کردہ 13 صفحات کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن سے متعلق اعتراضات سپریم کورٹ ماضی میں زیرغور لاچکی، مستقلی کیلئے چیف جسٹس ہائیکورٹ کی سفارش کے باوجود درخواست گزار کا حق دعویٰ نہیں بنتا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی سفارش محض کارروائی کا حصہ ہونے کے علاوہ کچھ نہیں، کمیشن میں سفارش پر غور کے بعد ہی ووٹنگ کی جاتی ہے۔
جسٹس عظیم آفریدی 5 سمتبر 2011ء کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج تعینات ہوئے، جوڈیشل کمیشن نے عظیم خان آفریدی کو مستقل نہ کرتے ہوئے ہٹا دیا تھا۔، جس کے بعد سابق جج نے جوڈیشل کونسل کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔
from Samaa - Latest News https://ift.tt/rZlfT1t
via IFTTT
No comments:
Post a Comment