لاہور: کرسچین میرج ایکٹ میں 153 سال بعد بنیادی تبدیلیاں تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نیا بل تیار کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومتِ پنجاب نے مسیحی برادری کے قدیم فیملی قوانین میں 153 سال بعد بنیادی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی دلچسپی پر "کرسچین میرج ایکٹ بل 2026” تیار کر لیا گیا ہے، جسے قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کے چیئرمین فیلبوس کرسٹوفر نے پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔
نئے بل کے تحت مسیحی برادری میں شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی دونوں کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 1872 کے قانون میں یہ عمر لڑکوں کے لیے 16 اور لڑکیوں کے لیے صرف 13 سال تھی۔
اب شادی کے لیے دولہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازمی ہوگا، اس سے قبل کسی ایک کا مسیحی ہونا کافی تھا۔
مسیحی نکاح نامہ کو اب یونین کونسل اور نادرا کے ریکارڈ میں درج کرنا لازمی ہوگا، جس سے پہلے رجسٹریشن میں آنے والی قانونی مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔
تمام رجسٹرڈ گرجا گھروں میں مسیحی روایات کے مطابق نکاح پڑھوایا جا سکے گا اور تقریب کے لیے وقت یا دن کی کوئی قید نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ انگریز دور کے پرانے قوانین مسیحی برادری کے لیے رجسٹریشن اور دیگر معاملات میں رکاوٹ تھے، اس نئے بل سے اقلیتی برادری کو ان کے قانونی اور سماجی حقوق کی بہتر فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/MJrOUqk
No comments:
Post a Comment