کال سینٹرز : این جی اوز کے نام پر آن لائن فراڈ ’ڈبہ‘ نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے؟ - Pakiatani Media News

Breaking

Saturday, 11 April 2026

کال سینٹرز : این جی اوز کے نام پر آن لائن فراڈ ’ڈبہ‘ نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے؟

کراچی سمیت دنیا بھر میں آن لائن فراڈ ’ڈبہ‘ نیٹ ورک سرگرم ہے جس کے تحت این جی اوز کے ذریعے منی لانڈرنگ کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔

سائبر فراڈ کی دنیا میں “ڈبہ” کے نام سے معروف غیرقانونی آن لائن اسکیموں کا جال ملک بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

کراچی میں سرگرم ڈبہ نیٹ ورک آن لائن فراڈ کا ایک منظم نیٹ ورک ہے، جو چھوٹے، غیرقانونی کال سینٹرز کے ذریعے جعلی انشورنس، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ڈبہ پیک موبائل فونز کے نام پر شہریوں، خاص طور پر بوڑھے افراد کو لوٹ رہا ہے، یہ گروہ جعلی ڈیٹا اور چوری شدہ معلومات کا استعمال کرتے ہیں۔

سائبر فراڈ کی دنیا میں “ڈبہ” کے نام سے معروف غیر قانونی آن لائن اسکیموں کا جال تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے ذریعے جعلی کال سینٹرز، فیک ویب سائٹس، فشنگ لنکس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے شہریوں اور اداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں گزشتہ دنوں ایک اہم انکشاف سامنے آیا کہ کراچی کے ایک بڑے این جی او کے سربراہ کو ایک مشتبہ شخص نے رابطہ کرکے ایک ارب روپے این جی او کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی پیشکش کی۔

منصوبے کے مطابق رقم بعد ازاں آپس میں تقسیم کی جانی تھی، تاہم این جی او مالک کے سوالات کرنے پر مشتبہ شخص خاموش ہوگیا اور ملاقات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ رقم آن لائن اسکیموں کے ذریعے حاصل کی گئی غیر قانونی دولت یعنی کالا دھن تھا، جسے سفید کرنے کے لیے این جی او کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔

آن لائن فراڈ

ماہرین کے مطابق ’ڈبہ‘ دراصل عالمی سطح پر پھیلا ہوا آن لائن فراڈ کا ایسا نظام ہے، جس میں جعل ساز خود کو بینک افسر، سرکاری اہلکار یا معروف کمپنیوں کے نمائندے ظاہر کرکے شہریوں سے کریڈٹ کارڈ نمبر، سی وی وی، او ٹی پی کوڈز اور دیگر حساس معلومات حاصل کرتے ہیں اور پھر اچانک ان کے بینک اکاؤنٹس خالی کردیے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جرائم دو اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں، پہلا ’سائبر ڈیپنڈنٹ کرائم‘ جہاں کمپیوٹر سے کمپیوٹر براہِ راست حملہ ہوتا ہے اور دوسرا ’سائبر انیبلڈ کرائم‘ جہاں کمپیوٹر روایتی جرائم کو ممکن بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق آن لائن فراڈ نیٹ ورکس شہریوں کا چوری شدہ مالیاتی ڈیٹا ڈارک ویب سے خریدتے ہیں، پھر اسے جعلی سرمایہ کاری، ریموٹ ایکسیس ایپس، سم سوائپ فراڈ اور سوشل انجینئرنگ جیسے طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔

آن لائن فراڈ کیس

منی میولز کیا ہیں؟

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فراڈ میں ’منی میولز‘ یعنی ایسے افراد کے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے ہیں جو کم مالیاتی آگاہی رکھتے ہیں یا انہیں ان جرائم کا علم ہی نہیں ہوتا۔

ان افراد کے معمولی رقم کے عوض سرکاری اسکیموں کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھلوائے جاتے ہیں اور یہ اکاؤنٹس اسکیمروں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں جن کے ذریعے رقوم مختلف مراحل سے گزار کر کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر دی جاتی ہیں۔

حکام کے مطابق بھارت، بنگلہ دیش، کمبوڈیا اور فلپائن اس دھندے کے بڑے مراکز ہیں، تاہم اب پاکستان میں بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں سامنے آرہی ہیں۔

کراچی میں چند ماہ قبل نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک اسکیم ہاؤس پر چھاپہ مار کر 15غیرملکیوں اور 19 مقامی افراد کو گرفتار کیا تھا۔

کارروائی کے دوران 36 ہزار سے زائد بین الاقوامی سمز، ڈیجیٹل آلات اور مشتبہ مالیاتی ریکارڈ برآمد کیے گئے تھے۔

جعلی سرمایہ کاری کی ویب سائٹس

حکام کے مطابق فراڈیے جعلی ایپس اور ویب سائٹس پر سرمایہ کاری کے نام پر صارفین کو پہلے منافع دکھاتے ہیں، پھر مزید رقم لگوانے کے بعد جب متاثرہ شخص رقم نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو اضافی ٹیکس اور فیس کے نام پر مزید رقم بٹوری جاتی ہے اور آخر میں ویب سائٹ ہی غائب کردی جاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت سے خطرہ مزید بڑھ گیا

سائبر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے استعمال سے آن لائن فراڈ مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو رہا ہے، اندازہ ہے کہ 2030 تک عالمی سائبر فراڈ سے ہونے والا نقصان کھربوں ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں اے آئی پر مبنی خودکار کال سینٹرز انسانوں کی جگہ لے سکتے ہیں، جس سے دھوکا دہی کا سراغ لگانا مزید مشکل ہوجائے گا۔

احتیاطی ہدایات اور تدابیر

ماہرین نے عوام کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ اپنا او ٹی پی، سی وی وی، بینک اکاؤنٹ یا کارڈ نمبر کسی سے شیئر نہ کریں، نامعلوم لنکس یا ویب سائٹس پر کلک نہ کریں، غیرمعمولی منافع کے وعدوں پر یقین نہ کریں، کسی بھی مشکوک کال یا پیغام کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔

حکام کے مطابق ڈیجیٹل خواندگی کے بغیر ان جرائم کا سدباب ممکن نہیں اور شہریوں کی آگاہی ہی آن لائن فراڈ کے خلاف سب سے مؤثر دفاع ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں کام کرنے والی متعدد غیرملکی این جی اوز کا بغیر کسی رجسٹریشن کے کام کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق دو بین الاقوامی این جی اوز پاکستان میں بغیر کسی رجسٹریشن کے کام کر رہی تھیں۔ قانون کے مطابق اگر کوئی این جی او غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرتی ہے تو اسے اکنامک افئیر ڈویژن اور وزارت داخلہ کے مشترکہ پورٹل میں اپنے منصوبوں کی تفصیلات دینا لازمی ہوتی ہیں۔

وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد ہی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں ان بین الاقوامی این جی آوز کی کلیئرنس دیتے ہیں، جس کے بعد ہی انٹرنیشنل این جی آوز پاکستان میں کام کرسکتی ہیں۔

ملک میں 2 سے 3 ارب روپے کے آن لائن فراڈ کیسز رپورٹ ہونے کا انکشاف



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/jMWau4D

No comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();