کراچی : وزیرداخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ انمول پنکی کیس میں پولیس کا طرز عمل دیکھ کر افسوس اور مایوسی ہوئی، جے آئی ٹی بنانے کا اعلان کرتا ہوں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور وزیرداخلہ سندھ بہت شرمندگی محسوس ہورہی ہے کہ کیا اس طرح نظام چلے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی میں ایڈیشنل آئی جی، انٹیلی جنس کا نمائندہ اور بیورو کریٹ شامل ہوگا، دیکھیں گے ریمانڈ کے لیے پولیس کا چالان کتنا مضبوط تھا، ملزمہ پنکی کے خلاف تمام مقدمات میں ریمانڈ لیا جائے گا، یہ ہمارے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔
صوبائی وزیرداخلہ نے کہا کہ جو بھی ذمہ دار ہے اس کیخلاف کارروائی اور گرفتاری ہوگی، اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملزمہ باہر نہ نکلے، انمول پنکی کوکین میکر اور چلتی پھرتی منشیات کی فیکٹری ہے، صرف ایک پنکی نہیں بلکہ اوربھی اوربہت سے گینگ ہیں۔
ملزمہ انمول پنکی کی گرفتاری میں انٹیلی جنس اور پولیس کی محنت ہے، صرف یہ ہی نہیں بلکہ اور بھی اور بہت سے گینگ ہیں، زیادہ تر منشیات کے گینگ کا گڑھ کراچی ہے کیونکہ یہاں چھپنا آسان ہے۔
گارڈن پولیس کے 3 افسران کو معطل کیا ہے اور جے آئی ٹی بنا رہا ہوں جس میں ایڈیشنل آئی جی، انٹیلی جنس نمائندہ اور بیورو کریٹ بھی شامل ہوگا،
خاتون مجسٹریٹ کیخلاف بھی درخواست دینگے کہ ہائی فائی کیس میں 24گھنٹے کا بھی ریمانڈ نہیں دیا، ریمانڈ نہ دینا بھی سوالیہ نشان ہے۔
’انمول پنکی 14 سال کی عمر میں ماڈل بننے نکلی کوکین ڈیلر بن گئی‘
from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/oAv7l2B
No comments:
Post a Comment