سابق برطانوی وزیر کا قتل، سفیدفام شخص پر فردِجرم عائد - Pakiatani Media News

Breaking

Monday, 20 July 2026

سابق برطانوی وزیر کا قتل، سفیدفام شخص پر فردِجرم عائد

سابق برطانوی وزیر این وِڈیکمب کے قتل کے الزام میں ملزم پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔

برطانوی استغاثہ نے پیر کو کہا کہ ایک 28 سالہ شخص پر سابق حکومتی وزیر این وِڈیکمب کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے جو اس ماہ کے شروع میں اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔

برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس نے کہا کہ جوشوا کیری، جو شمالی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک سفید فام برطانوی شہری ہیں ان پر قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

وہ منگل کو لندن کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

Man, 28, charged with murder of former MP Ann Widdecombe | UK news | The Guardian

CPS اسپیشل کرائم اینڈ کاؤنٹر ٹیررازم ڈویژن کے چیف ‌کراؤن پراسیکیوٹر فرینک فرگوسن نے ایک بیان میں کہا، "مدعا علیہ کے محرکات کے بارے میں پولیس کی پوچھ گچھ جاری ہے جس میں ممکنہ سیاسی یا دہشت گردی کا تعلق بھی شامل ہے۔”

پولیس نے پہلے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وِڈکومبے کو واضح طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

78 سالہ این وِڈیکمب 9 جولائی کو جنوب مغربی انگلینڈ کے دیہی علاقے میں واقع اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق ان کے جسم پر سنگین نوعیت کے زخم تھے۔ وہ نائجل فراج کی جماعت ریفارم یو کے ی نمایاں رہنما تھیں۔ انھوں نے 2010 میں پارلیمان سے سبک دوش ہونے کے بعد کنزرویٹو پارٹی چھوڑ دی تھی۔

وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’بدھ کے روز این وِڈیکمب کو ان کے گھر میں قتل کیا گیا۔ ان کی موت کے حالات انتہائی افسوس ناک اور تکلیف دہ ہیں۔ اب انسدادِ دہشت گردی پولیس نے اس تحقیقات کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’نئی معلومات‘‘ سامنے آئی ہیں جن کی وجہ سے تحقیقات کی نوعیت تبدیل ہو گئی ہے، تاہم انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گرفتار مشتبہ شخص برطانیہ کے انسدادِ انتہا پسندی پروگرام ’پری وینٹ‘ کے ریکارڈ میں شامل نہیں تھا۔

انسدادِ دہشت گردی پولیس نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے اور اب اس پر دہشت گردی کی کارروائی کرنے، اس کی تیاری کرنے یا اس پر اکسانے کے شبہے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے عوام سے بھی اس مقدمے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

قومی انسدادِ دہشت گردی پولیس کے سربراہ لارنس ٹیلر نے کہا ’’ہم اس حملے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہماری اوّلین ترجیح یہ ہے کہ اس تحقیقات کو جلد از جلد آگے بڑھایا جائے۔‘‘

واضح رہے کہ برطانیہ میں سیاست دانوں کی سیکیورٹی پہلے ہی زیرِ بحث ہے، کیوں کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران دو حاضر سروس اراکینِ پارلیمنٹ قتل کیے جا چکے ہیں۔ 2016 میں بریگزٹ مہم کے دوران لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ جو کاکس کو ایک نازی نظریات سے متاثر حملہ آور نے گولی مارنے کے بعد چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ 2021 میں کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ ایمس کو ایک ایسے شخص نے چاقو کے وار کر کے قتل کیا تھا جو داعش کے نظریات سے متاثر تھا۔

شبانہ محمود نے کہا کہ جو کاکس اور ڈیوڈ ایمس بھی ان کے ذہن میں ہیں، اور این وِڈیکمب کی موت عوامی زندگی سے وابستہ افراد کی سیکیورٹی کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر قانون سازوں اور سیاست سے وابستہ دیگر افراد کے تحفظ کے لیے اقدامات پر کام کرے گی۔

این وِڈیکمب کون تھیں؟


این وِڈیکمب اپنے سماجی طور پر قدامت پسند نظریات کی وجہ سے معروف تھیں۔ وہ 1992 سے 1997 تک وزیر اعظم جان میجر کی کنزرویٹو حکومت میں جونیئر وزیر رہیں، جب کہ بعد میں ریفارم یو کے کی جانب سے امیگریشن اور انصاف کے امور کی ترجمان بھی رہیں۔

انھوں نے جزوی طور پر چرچ آف انگلینڈ کی جانب سے خواتین کو پادری مقرر کرنے کے فیصلے کے احتجاج میں کیتھولک مذہب اختیار کیا تھا۔ وہ اسقاطِ حمل کی مخالف تھیں اور ہم جنس پرست اور غیر ہم جنس پرست افراد کے لیے رضامندی کی قانونی عمر برابر کرنے کی بھی مخالفت کرتی تھیں۔



from ARYNews.tv | Urdu – Har Lamha Bakhabar https://ift.tt/cX2pdGt

No comments:

Post a Comment

'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();